میں چاہوں
- Sana Gulzar
- Dec 29, 2024
- 1 min read
میں چاہوں تو توڑ بھی لاٶں
فلک سے چن کر چند ستارے
رکھوں میں پھر ان کو سجا کر
خوابوں کی نگری میں جا کر
میں چاہوں تو اُڑوں پنچھی بن کر
پَروں کو کھولوں اور سمیٹوں
میں سیر کروں پھر دنیا کی
اور دیکھوں ہلچل دنیا کی
میں چاہوں تو بن کر جل مچھلی
چلاٶں پاٶں سمندر میں
چیروں لہریں سمندر کی
اور دیکھوں رعنائی پانی کی
میں چاہوں تو بن کر ریت اُڑوں
اور بکھروں گرم سے صحرا میں
یوں اُڑتی پھروں میں ریت کے سنگ
اور دیکھوں ریت کی دنیا کو
میں چاہوں تو پہاڑوں میں گم ہو جاٶں
اور خود کو وہاں کا پتھر کروں
دیکھوں چشمے بہتے ہوئے
پھر دیکھوں خدا کی قدرت کو
میں چاہوں تو میں یہ کر سکتی ہوں
نا ممکن کو ممکن کر سکتی ہوں
جب خود کہا ہے اللہ نے
نہیں نا ممکن کچھ بھی دنیا میں
میں چاہوں تو سب کر سکتی ہوں
اپنے حوصلے سے سر کر سکتی ہوں
میرا صبر ہی میری طاقت ہے
میں چاہوں تو سب کر سکتی ہوں
~ ثناء گلزار
Comentarios