زندگی اک سراب!
- Sana Gulzar
- Oct 24, 2023
- 3 min read
کہانیاں صرف وہ نہیں ہوتی جو کتابوں میں بیان کر دی جاتی ہیں بلکہ کہانیاں تو وہ بھی ہوتی ہیں جو بظاہر کسی کتاب میں لکھی نہیں گٸی ہوتی مگر حقیقتاً وہ کہیں نہ کہیں زندگیوں پر ایک گہرا کالا بادل بن کر برس رہی ہوتی ہیں اور تا عمر کے لیے امر ہو جاتی ہیں ـ ایسی ہی کہانی نوشابہ کی تھی جو خود کو ایک بہت باشعور اور پڑھی لکھی خاتون سمجھتی تھی مگر دوسروں کی نظر میں اتنی ہی بے شعور اور کم عقل تھی ـ ایسا نہیں تھا کہ وہ زندگی کے تمام معاملات میں ایسی تھی مگر اس نے ایک غلطی ایسی کی جو اس کے لیے زندگی کی سب سے بڑی سزا بن گٸی ـ اپنی تعلیم سے لے کر اپنے کرئیر تک اس نے اپنے تمام فیصلے خود لیے تھے اور وہ ان سب میں انتہائی کامیاب بھی رہی تھی ـ اس کے والدین نے ہمیشہ اس کے فیصلے کو ترجیح دی تھی اور خوش قسمتی سے وہ اپنے خاندان کی پہلی لڑکی تھی جسے ملک سے باہر جا کر پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا ـ مگر زندگی کے ایک فیصلے نے اس کی تمام سمجھداری اور شعور پر سوالیہ نشان لگا دیا تھاـ بچپن سے خوابوں کی نگری میں اونچی اڑان بھرنے کا خواب دیکھتی وہ لڑکی کب کسی انجان لڑکے کی باتوں میں آ گئی اسے خود سمجھ نہ آئی اور اس نے جھٹ سے اپنے والد سے اپنی خواہش کا اظہار کر دیاـ اس کے والدین جو اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے سو خواب سجائے بیٹھے تھے فوراً سے شادی کی تیاریوں میں مشغول ہو گئے اور اپنی بیٹی کے لیے ڈھیروں ارمان سجا لیے مگر مہینوں گزرنے کے باوجود بھی وہ لڑکا اپنے خاندان کو نہ لے کے آیا ـ نوشابہ جب بھی اس سے رشتے کی بات کرتی وہ ہمیشہ اس سے وعدہ لے کر چند مہینے کا وقت مانگ لیتا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتی کہ وہ دن آ ہی گیا جب نوشابہ اپنے محبوب شخص کو ایک خواب کی صورت اپنے سامنے دیکھ رہی تھی ـ لیکن اسکا محبوب ترین شخص شوہر کا لبادہ اوڑتے ہی محبت کو جائیداد سمجھنے لگا تھا اور نہ جانے وہ اتنا سنگ دل کیسے ہو گیا تھا کہ وہی لڑکی جو اسے ساری دنیا سے عزیز تھی اس کی وفا پہ شک کرنے لگا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی پہ جھوٹی ، بے وفا اور بے حیا کے الزامات لگانے لگا اور پھر نوشابہ پہ ہاتھ بھی اٹھانے لگاـ وہ یہ سب برداشت کرتی رہی کیونکہ بلآخر وہ شخص اسی کی پسند تھا جس نے شادی سے پہلے اسے محبت کے شیشے میں اتار کر اسے تا عمر بے انتہا محبت دینے کا وعدہ کیا تھاـ اور اسی مرد کی محبت نے اسے اتنا بے مول کر دیا تھا کہ وہ موت کی دعا کرنے لگی تھی ـ اپنے والدین کی لاڈلی بیٹی محبت میں اتنا ہار چکی تھی کہ وہ اپنے بوڑھے ماں باپ کے چہرے تک کو ترس چکی تھی ـ اور یونہی اپنے محبوب شوہر کے ہاتھوں ذلیل ہوتے ہوتے وہ ایک دن اپنے بچوں کو اس بے رحم دنیا میں اکیلا چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جا ملی ـ وہ نو شابہ جس کی مثالیں سارا محلہ اور خاندان دیا کرتا تھا وہ نوشابہ اپنے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے اپنے شعور اور عقل پہ سوالیہ نشان چھوڑ گئی تھی ـ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ زندگی ایک سراب ہے اور یہاں کا سب سے بہترین تماچہ وقت کا تماچہ ہوتا ہے جو ہمیں بار بار پیغام خداوندی کی طرف لے جاتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی محض دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں! اس لیے عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ یہاں انسانوں سے امیدیں باندھنے سے گریزہ رہا جائے کیونکہ انسان سے بڑا کوئی جانور نہیں!
~ ثناء گلزار
Comments