top of page

زندگی ڈھلتا پرچھاواں!

  • Writer: Sana Gulzar
    Sana Gulzar
  • Oct 1, 2023
  • 2 min read

اپنے تمام کام ایک طرف چھوڑ کر وہ ٹی وی پر چلتی خبروں کی طرف متوجہ ہوئی ـ "خانیوال ٹرین حادثے میں جان بحق افراد کی تعداد ۱۳۴ ہو گئی .  .  .  .  جی ہاں!  آپ کو تازہ تر اطلاع دیتے چلیں کہ کل رات ہونے والے ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد ۱۳۴ ہو چکی ہےـ کل رات ہونے والے خطرناک حادثے نے نہ جانے کتنی ہی زندگیاں نگل لی ہیں،  نا جانے کتنے گھر اس افسوس ناک واقع کی نظر ہو چکے ہیں" خبریں اپنی رفتار سے چل رہیں تھی اور وہ صوفے پر بیٹھی کسی سکتے میں جا چکی تھی ـ اس نے انتہائی ہمت سے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنا فون اٹھایا اور جلدی سے کال ملا کر فون کان سے لگا لیا،  "آپ کے مطلوبہ نمبر سے اس وقت  رابطہ ممکن نہیں، برائے مہربانی تھوڑی دیر بعد کوشش کیجئیے" اس نے کان سے فون ہٹا کر میز پر رکھا "نہیں حلیمہ!  احمد اس ٹرین میں سوار نہیں تھا،  تم خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہو! " اس نے خود کو مخاتب کر کہ حوصلہ دیا مگر اس کا دل اس کے بھکاوے میں نہیں آ رہا تھاـ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے دل کی ڈھڑکن مزید تیز اور بے قابو ہوتی جا رہی تھی ـ اس نے ہمت کر کہ ایک بار پھر فون اٹھایا اور کان سے لگا لیا کہ شاید اس بار جواب موصول ہو جائے اور وہ اپنے اکلوتے لاڈلے بھائی کی آواز سن لے مگر ایسا نہیں ہوا- اس کی پتھر إنکھوں سے آنسو نہیں نکل رہے تھے مگر اسکے دل کی تکلیف اس کے چہرے سے عیاں تھی کیونکہ اس پوری دنیا میں اسکا احمد کے سوا کوئی نہ تھاـ وہ شدید بے چینی کی حالت میں ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگی ـ پریشانی اس کے چہرے پر غالب آ رہی تھی اور وہ مسلسل غم کی دلدل میں دھنستی جا رہی تھی ـ اسی اسنا میں دروازے پر ایک زور دار دستک ہوئی ـ وہ بھاگتے ہوئے  دروازے تک پہنچی اورفٹاک سے دروازہ کھولاـ دروازے پر موجود لوگوں کی آمد اور ان کے چہرے کی پشیمانی حلیمہ کو اندیہ دینے کے لیے کافی تھی کہ اس کا سب سے بڑا خوف ایک حقیقت بن کر اس کے سامنے کھڑا ہےـ لوگوں کے اس پریشان ہجوم میں موجود ایک عورت اسے لپکی اور پھر ایک لمحے میں ہی وہ بھیانک خبر ایک کالے،گہرے طوفان کی طرح اس کے پیروں تلے سے زمین چھین کر لے گئی اور وہ زمین پر گر پڑی ـ  اسے کیا معلوم تھا کہ اپنے اکلوتے بھائی کو سیر کے لیے بھیجنا اسے اتنی بڑی اذیت میں مبتلا کر دے گاـ اس کے والدین کی حادثاتی موت کے بعد اس کے بھائی کی حادثاتی موت اس پر یہ حقیقت عیاں کر چکی تھی کہ زندگی ایک ڈھلتا پرچھاواں ہے جو کبھی بھی کسی کو بھی نگل سکتا ہےـ موت تو برحق ہے اور زندگی کب، کہاں،کسے پیچھے چھوڑ دے، اس بات کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتےـ اس لیے زندگی کی اس حقیقت کو تسلیم کر لینا کافی ہے کہ زندگی اک ڈھلتا پرچھاواں ہے اور ہر دن ہمیں اس دن کے قریب لے جا رہا ہے جو ہمیشہ سے طے ہےـ   

 
 
 

Recent Posts

See All
میں چاہوں

میں چاہوں تو توڑ بھی لاٶں فلک سے چن کر چند ستارے رکھوں میں پھر ان کو سجا کر خوابوں کی نگری میں جا کر میں چاہوں تو اُڑوں پنچھی بن کر پَروں...

 
 
 
Mother's day!

I have seen women getting the news of their first pregnancy, I have seen their excitement and unwavering emotions, The emotions that ran...

 
 
 

2 Comments

Rated 0 out of 5 stars.
No ratings yet

Add a rating
Azra Naseem
Azra Naseem
Oct 02, 2023
Rated 5 out of 5 stars.

Reality

Like

minahilkhalid718
Oct 01, 2023
Rated 5 out of 5 stars.

Perfect

Like

Subscribe Form

Thanks for submitting!

03090972563

©2021 by Writer Sana Gulzar. Proudly created with Wix.com

bottom of page